*🌹خلاصتہ القرآن🌹* *ساتواں پارہ* 19 رکوع پر مشتمل ہے *اس پارے میں دو حصے ہیں:* ۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ 6 رکوع ۲۔ سورۂ انعام اب...
*🌹خلاصتہ القرآن🌹*
*ساتواں پارہ*
19 رکوع پر مشتمل ہے
*اس پارے میں دو حصے ہیں:*
۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ 6 رکوع
۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ 13 رکوع
*(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:*
۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف
۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل
۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
۱۔ *حبشہ کے نصاری کی تعریف:*
جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔
۲۔ *حلال وحرام کے چند مسائل:*
۔۔۔ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ۔
۔۔۔لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انہیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔
۔۔۔شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔
۔۔۔حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔
۔۔۔حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔
۔۔۔چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام۔
۲۔ *قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام*
قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللّٰه تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللّٰه تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنوا کر اللّٰه تعالیٰ پوچھیں گے اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری عبادت کا کہا تھا الی آخرہ۔
*(دوسرا حصہ) سورۂ انعام کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں ہیں:*
۱۔ توحید
۲۔ رسالت
۳۔ قیامت
۱۔ *توحید:*
اس سورت میں اللّٰه تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عظمت وکبریائی خوب بیان ہوئی ہے۔
۲۔ *رسالت:*
نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللّٰه تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام، (۴)حضرت نوح علیہ السلام، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ل، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام، (۱۸)حضرت لوط۔
۳۔ *قیامت:*
۔۔۔ قیامت کے روز اللّٰه تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ *(آیت:۱۲)*
۔۔۔روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللّٰه کی بڑی مہربانی ہوگی۔ *(آیت:۱۶)*
۔۔۔روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے شرکاء؟ *(آیت:۲۲)*
۔۔۔اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللّٰه ربّ کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں *۔(آیت:۲۷)*
۔۔۔ لدنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔ *(آیت:۳۲)*
✍️ حبیب الرحمن نوری 💫
کوئی تبصرے نہیں
ایک تبصرہ شائع کریں